جنگ بندی سے کوئی فرق نہیں پڑا ،شہر بدستور حوثیوں کے قبضے میں ہے،مقامی افراد مزاحمت کر رہے ہیں،عینی شاہدین، ایرانی کمانڈر اجنبی زبان میں بات کرتے ہیں، حوثی ملیشیا میں شامل صلاح نامی جنگجو زبان کا ترجمہ کر کے سمجھاتا تھا،فواد علی مقبل کا دوران تفتیش بیان


صنعاٟمشرق نیوزٞ یمن میں جنگ بندی کے باوجود تعز میں جھڑپیں، 10 ہلاک،متعدد زخمی ہو گئے عرب میڈیا کے مطابق یمن میں جاری 5روزہ جنگ بندی کے باوجود وسطی شہر تعز میں حوثی باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں جس میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے ہیںوسطی شہر تعز کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جمعے کو مقامی ملیشیا اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس میں کم از کم 10 افراد مارے گئے ہیںمقامی افراد کا کہنا ہے کہ دہالیہ شہر میں بھی باغیوں اور قبائلیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں جن میں تاحال کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے جنوبی ساحلی شہر عدن کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے ٴٴرائٹرزٴٴکو بتایا ہے کہ جنگ بندی سے کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور شہر بدستور حوثیوں کے قبضے میں ہے جس کےخلاف مقامی افراد مزاحمت کر رہے ہیں ۔دریں اثنائ یمن میں عوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے ہاں یرغمال بنائے گئے ایک حوثی جنگجو نے انکشاف کیا ہے کہ جنوبی یمن کے علاقے عدن میں 5 اہم ایرانی کمانڈر حوثیوں کی کمان کررہے ہیںمقامی نیوز ویب پورٹلٴٴعدن الغدٴٴکے مطابق مزاحمتی کارکنوں نے مقبل فواد علی مقبل نامی ایک حوثی جنگجو کو حال ہی میں عدن سے حراست میں لیا اس نے دوران تفتیش بتایا کہ ایرانی کمانڈر ایک اجنبی زبان میں بات کرتے ہیں حوثی ملیشیا میں شامل صلاح نامی جنگجو ہی ان کی زبان جانتا ہے وہ ایرانیوں کی ہدایات سن کر ہمیں اس کا ترجمہ کر کے سمجھاتا تھا۔ جھڑپیں